LIVE
Loading Breaking News...

تونس میں صحافیوں کی گرفتاری، صدر قیس سعید کا کریک ڈاؤن

News Image
صدر قیس سعید کے دور حکومت میں تونس کے اندر میڈیا پر دباؤ اور صحافیوں کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ حالیہ کارروائی کے دوران ایک اور نامور صحافی کی گرفتاری پر ملک اور بیرون ملک شدید تشویش کا اظہار کیا جا रहा ہے۔
تونس میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں اور منصفانہ تنقید کو دبانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں حالیہ دنوں میں ایک اور معروف صحافی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس تازہ ترین گرفتاری نے ملک میں جاری اس مبینہ کریک ڈاؤن کو ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جو صدر قیس سعید کے دورِ اقتدار میں شدت اختیار کر چکا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی صحافتی اداروں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آزادیِ صحافت کا احترام کیا جائے۔ صدر قیس سعید کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تونس کے سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، حکومت مخالف آوازوں، حزب اختلاف کے رہنماؤں اور میڈیا سے وابستہ افراد کے خلاف قانونی شکنجہ تیزی سے کسا جا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں گرفتار ہونے والے صحافی کے حوالے سے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی ملکی قوانین کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، تاہم ناقدین اسے اختلافِ رائے کو کچلنے اور آزاد میڈیا کی آواز کو خاموش کرنے کی ایک دانستہ کوشش قرار دے رہے ہیں۔ تونس میں آزادیِ صحافت سے وابستہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ ماضی میں تونس کو عرب دنیا میں جمہوریت اور آزادیِ اظہار کا ایک روشن مینار سمجھا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں رونما ہونے والے ان واقعات نے اس تاثر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے مسلسل تنبیہ کے باوجود حکومت کی جانب سے اس پالیسی میں کوئی نرمی دکھائی نہیں دے رہی، جس کی وجہ سے صحافی برادری سخت خوف اور بے یقینی کے عالم میں کام کرنے پر مجبور ہے۔