Politics
ریپبلکن کنونشن کی فرضی ویب سائٹ کا گوگل پر اسکینڈل
امریکہ میں ریپبلکن کنونشن کی ایک جعلی ویب سائٹ گوگل سرچ پر پہلے نمبر پر آگئی جو صارفین کو جیفری ایپسٹین سے متعلقہ فائلوں کی جانب ری ڈائریکٹ کررہی تھی۔ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اس واقعے پر طنز کیا ہے جبکہ ریپبلکنز نے اسے جعلی خبر قرار دیتے ہوئے اصلی ویب سائٹ کا رخ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکہ میں سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب ریپبلکن کنونشن کے نام سے بنائی گئی ایک فرضی ویب سائٹ گوگل سرچ انجن پر سرفہرست یعنی ٹاپ پوزیشن پر آ گئی۔ اس جعلسازی کا سب سے دلچسپ اور متنازع پہلو یہ تھا کہ اس ویب سائٹ پر کلک کرنے والے صارفین کو ریپبلکن پارٹی کے پلیٹ فارم کے بجائے مبینہ طور پر جیفری ایپسٹین سے جڑے اسکینڈلز اور فائلوں کی جانب ری ڈائریکٹ کیا جا رہا تھا۔ اس تکنیکی چال نے انٹرنیٹ پر تہلکہ مچا دیا اور سیاسی مبصرین کی توجہ فوراً اس جانب مبذول ہو گئی۔
اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد سیاسی محاذ آرائی بھی تیز ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے قانون سازوں نے اس صورتحال پر طنز کرتے ہوئے اس پر مزاحیہ ردعمل ظاہر کیا ہے، اور اسے ایک دلچسپ سیاسی طعنہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی اور ان کے حامیوں نے اس واقعے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اسے مخالفین کی ایک گھٹیا چال اور جعلی خبر قرار دیا ہے تاکہ پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے اور آنے والے سیاسی اجتماعات کے تناظر میں منفی پروپیگنڈا کیا جا سکے۔
ریپبلکن رہنماؤں نے اپنے حامیوں اور عام عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس قسم کے دھوکے باز لنکس سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی گمراہ کن معلومات پر یقین کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ گوگل پر نظر آنے والے اس فرضی لنک سے بچا جائے اور صرف پارٹی کی مصدقہ اور اصل ویب سائٹ کا رخ کیا جائے تاکہ درست معلومات تک رسائی ممکن ہو سکے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح ایک فرضی ویب سائٹ نے سرچ انجن کی اصلاحی درجہ بندی کو متاثر کیا اور اتنی جلدی ٹاپ پوزیشن حاصل کی۔