LIVE
Loading Breaking News...

خواجہ آصف کا پیپلز پارٹی پر دوہرے معیار کا الزام

News Image
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت اختیارات کی منتقلی تو کی گئی لیکن اس پر ناقص عمل درآمد کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے دوہرے معیار کا مرتکب قرار دیا ہے۔ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بحث اور سیاسی گرما گرمی کے دوران ان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک حالیہ انٹرویو کے دوران خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ملک میں انتظامی بہتری اور صوبائی خود مختاری کے نام پر جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں، وہ زمینی حقائق پر پورا نہیں اتر رہے۔ انہوں نے بالخصوص پیپلز پارٹی کے سیاسی رویے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم نے صوبوں کو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ایک بہترین فریم ورک فراہم کیا تھا، تاہم اس اہم آئینی شق پر عمل درآمد انتہائی ناقص اور نامکمل رہا ہے۔ ان کے مطابق، جب سرائیکی صوبے کے قیام کی بات آتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے، لیکن جب ملک کے دیگر حصوں میں وسیع تر انتظامی یا نئے صوبوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو سندھ دیش یا اس قسم کے دوسرے کارڈز سامنے لائے جاتے ہیں، جو کہ سیاسی منافقت اور دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خواجہ آصف کا یہ بیان حکمران اتحاد کے اندر موجود تضادات اور سیاسی چپقلش کو ظاہر کرتا ہے۔ ملک میں ایک طویل عرصے سے نئے انتظامی یونٹس اور بالخصوص سرائیکی خطے کے لیے الگ صوبے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، لیکن سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات اور انتخابی مجبوریوں کے پیش نظر اس پر متفقہ لائحہ عمل طے کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف پارلیمانی سطح پر بلکہ عوامی حلقوں میں بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے کیونکہ عوام بنیادی سہولیات اور بہتر گورنس کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کے خواہاں ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بیان کے بعد سیاسی میدان میں مزید گرما گرمی دیکھنے میں آ سکتی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان پہلے ہی کئی امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صوبوں کی تشکیل نو اور اٹھارہویں ترمیم کے نفاذ میں خامیوں کا یہ معاملہ بلاشبہ پارلیمنٹ کے ایوانوں سے لے کر میڈیا تک ایک گرم موضوع بنے گا، جس سے ملکی سیاست میں نئے جوڑ توڑ اور بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔