Business
وال اسٹریٹ میں مندی، مضبوط جابز رپورٹ اور فیڈ پالیسی کا اثر
امریکہ میں ملازمتوں کے مضبوط اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے سخت فیصلوں کی توقع کی ہے۔ اس صورتحال کے باعث وال اسٹریٹ کے بازار حصص میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے۔
امریکہ کے مالیاتی بازاروں میں اس وقت شدید ہلچل دیکھنے میں آئی جب وال اسٹریٹ کے بڑے اشاریے نمایاں گراوٹ کا شکار ہو گئے۔ اس مندی کی بنیادی وجہ امریکہ میں ملازمتوں کی ایک مضبوط اور توقع سے بہتر رپورٹ کا سامنے آنا ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو اپنی مانیٹری پالیسی میں مزید سختی لا سکتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق معیشت میں ملازمتوں کے مواقع تیزی سے بڑھے ہیں، جو کہ معاشی استحکام کی علامت تو ہیں لیکن مہنگائی کے تناظر میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی بینک افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے حصص کی فروخت میں تیزی دکھائی۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بازار حصص کے شرکاء اس بات سے خائف ہیں کہ شرح سود میں طویل عرصے تک نرمی نہ کیے جانے سے کارپوریٹ پرافٹ اور مجموعی معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ اس خدشے کے تحت تکنیکی اور مالیاتی اداروں کے شیئرز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مجموعی طور پر بازار کا رجحان منفی ہو گیا۔ وال اسٹریٹ کے تمام بڑے انڈیکسز میں دباؤ دیکھا گیا جبکہ بانڈز کی مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات اور افراط زر کے مزید اعداد و شمار بازار کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ کار اس صورتحال میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور وہ ہر نئی معاشی رپورٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اپنے پورٹ فولیو کو متوقع خطرات سے محفوظ رکھ سکیں۔