Technology
بھارت کا انٹرنیٹ اور سمندری کیبلز کا بحران - نیکسورا نیوز
بھارت میں تیز رفتار ڈیجیٹل ترقی کے باوجود زیرِ سمندر کیبلز کے بنیادی ڈھانچے میں اہم خامیوں اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا کے عزائم کو پورا کرنے کے لیے سمندری انٹرنیٹ نیٹ ورک کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔
نیکسورا نیوز کے مطابق بھارت میں ڈیجیٹل خدمات کا دائرہ کار تیزی سے پھیل رہا ہے اور ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت کے 'ڈیجیٹل انڈیا' پروگرام اور ملک کی نو جوان آبادی کے باعث آن لائن سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ تاہم، اس تمام تر ترقی کے پس منظر میں ایک ایسا چیلنج سر اٹھا رہا ہے جسے اب نظر انداز کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، اور وہ ہے زیرِ سمندر کیبلز کا بنیادی ڈھانچہ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی مانگ اور سمندر کے اندر موجود کیبلز کی صلاحیت کے درمیان ایک واضح عدم توازن پایا جاتا ہے۔ او پی جندل گلوبل یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر پوجا بھاٹ کا کہنا ہے کہ یہ خامی اب اتنی نمایاں ہو چکی ہے کہ اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں تو انٹرنیٹ کی سہولیات نسبتاً بہتر ہیں، مگر بین الاقوامی ڈیٹا کے تبادلے کے لیے جو زیرِ سمندر کیبلز استعمال ہوتی ہیں، ان پر دباؤ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اگر اس بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا گیا تو مستقبل میں انٹرنیٹ کی رفتار اور ڈیٹا کے بہاؤ میں شدید رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور ٹیکنالوجی کا ماننا ہے کہ اگر بھارت کو عالمی سطح پر ایک اہم ڈیجیٹل معیشت کے طور پر ابھرنا ہے، تو اسے نہ صرف زمینی بلکہ سمندری نیٹ ورک کو بھی انتہائی مستحکم بنانا ہوگا۔ اس سمت میں حکومتی اور نجی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ مستقبل کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے اور ڈیجیٹل انقلاب بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکے۔