LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان معیشت نجی شعبہ ترقی ایف بی آر اصلاحات خرم دستگیر

News Image
حکومت نے ملک میں معاشی استحکام اور نجی شعبے کی ترقی کو اپنے اقتصادی ایجنڈے کا مرکز بنا لیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات اور ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے ملک کے معاشی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز کرتے ہوئے معیشت کو نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق موجودہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا بنیادی محور اب طویل مدتی معاشی استحکام اور نجی کاروباری طبقے کو مکمل سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس ضمن میں ملک کے معاشی ماہرین اور اعلیٰ سرکاری عہدیداران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ریاست اب کاروبار کرنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد معیشت میں حکومتی مداخلت کو کم سے کم کرنا اور نجی سرمایہ کاروں کو آزادانہ ماحول فراہم کرنا ہے۔ دوسری جانب، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کر دیا گیا ہے تاکہ ملک کو کیش لیس اکانومی کی طرف منتقل کیا جا سکے۔ وزیراعظم پاکستان نے ایف بی آر کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ٹیکس کے حقیقی پوٹینشل کا تخمینہ لگانے کے لیے جدید سائنسی طریقے اور مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام کو مکمل طور پر فعال کریں۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس کے نظام میں اس ڈیجیٹل اوور ہال کے نفاذ کے مثبت نتائج بھی آنا شروع ہو چکے ہیں، جس سے نہ صرف ملکی محصول میں اضافہ ہوگا بلکہ شفافیت بھی یقینی بنے گی۔ حکومت کا یہ بھی ماننا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی کا انحصار اب برآمدات میں اضافے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر ہے۔ اس تمام حکمت عملی کا مقصد پاکستان کے معاشی مستقبل کو مستحکم بنانا اور عوام کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔