LIVE
Loading Breaking News...

معیشت کو ڈاؤن سائیڈ رسک کا سامنا: ایف پی سی سی آئی کا انتباہ

News Image
ایف پی سی سی آئی نے ملک کی معیشت کو درپیش نیچے کی طرف جانے والے خطرات سے خبردار کیا ہے کیونکہ پہلے دو ماہ میں تجارتی خسارہ اٹھارہ فیصد بڑھ کر سات ارب ایک کروڑ ڈالر ہو گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور درآمدی دباؤ نے ملکی برآمدات کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ملکی معیشت کو اس وقت متعدد نیچے کی طرف جانے والے خطرات یا ڈاؤن سائیڈ رسکس کا سامنا ہے۔ کاروباری اور تجارتی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ معاشی بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ اندرونی و بیرونی چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔ معاشی ماہرین اور تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملکی صنعتیں پہلے ہی توانائی کی بلند قیمتوں اور پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ ابتدائی دو مہینوں میں ہی اٹھارہ فیصد بڑھ کر سات ارب ایک کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ تجارتی خسارے میں اس تیزی سے اضافے کی بنیادی وجہ برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کا حجم زیادہ ہونا اور برآمدی شعبے کو درپیش رکاوٹیں ہیں۔ بلند پیداواری لاگت اور مہنگے خام مال کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس سے ملک کی برآمدی مشینری کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ اس صورتحال نے حکومت اور پالیسی ساز اداروں کے لیے بھی مشکلات بڑھا دی ہیں کیونکہ مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنا اور برآمدات کو فروغ دینا اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کرے اور کاروباری دوست پالیسیاں متعارف کروائے تاکہ ملکی برآمدات کو زوال سے بچایا جا سکے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو معاشی ترقی کے اہداف کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا اور عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔