Pakistan
کے پی میں اسکول سے باہر بچوں کی تعلیم کے لیے نئی مہم
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں اسکول سے محروم بچوں کی تعلیم کے لیے ایک بار پھر بھرپور مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بچیوں کی تعلیم کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور شرح خواندگی میں اضافہ کرنا ہے۔
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے اور اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کو تعلیمی اداروں میں واپس لانے کے لیے ایک نئی اور جامع مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اہم اقدام کے تحت ضلعی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں جو گھر گھر جاکر ایسے بچوں کی نشاندہی کریں گی جو مختلف وجوہات کی بنا پر کبھی اسکول نہیں جا سکے یا جنہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد ہی پڑھائی چھوڑ دی۔ حکومت کی اولین ترجیح ان بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنا اور انہیں تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اس نئی حکمت عملی کا ایک اور اہم اور بنیادی ہدف صوبے کے پسماندہ اضلاع میں بچیوں کی تعلیم کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق، بہت سی بچیاں دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی کمی یا نقل و حمل کے مسائل کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس کے تدارک کے لیے حکومت نہ صرف موجودہ اسکولوں میں سہولیات کو بہتر بنا رہی ہے بلکہ ضرورت کے مطابق نئے پرائمری اور مڈل اسکولوں کے قیام پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ ہر بچی کی رسائی تعلیم تک ممکن ہو سکے۔
تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کے حلقوں نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مہم کی کامیابی کے لیے والدین اور مقامی عمائدین کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔ عوامی سطح پر آگاہی مہمات چلائی جائیں گی تاکہ والدین کو اس بات کی ترغیب دی جا سکے کہ وہ اپنے بیٹوں کی طرح بیٹیوں کی تعلیم کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں۔ حکومت کی جانب سے اسکولوں میں مفت کتابیں اور وظائف فراہم کرنے جیسے اقدامات بھی اس مہم کا حصہ ہیں تاکہ غریب گھرانے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب حاصل کریں۔
امید کی جا رہی ہے کہ اس مربوط کوششوں کے نتیجے میں آنے والے چند برسوں میں خیبر پختونخوا میں شرح خواندگی میں نمایاں بہتری آئے گی اور ڈراپ آؤٹ کی شرح میں واضح کمی واقع ہوگی۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ تعلیمی معیار کو بین الاقوامی خطوط پر استوار کیا جا سکے اور صوبے کے روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔