LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران جنگ پر متنازع بیان، تنازع کو معمولی قرار دے دیا

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازع کو 'چھوٹے آلو' یعنی معمولی شے قرار دیتے ہوئے اس جنگ کو کم اہمیت دی ہے۔ ان کے اس بیان پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور ناقدین اسے غیر مناسب قرار دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ فوجی تنازع کو انتہائی ہلکا لیتے ہوئے اسے ’چھوٹے آلو‘ یعنی ایک معمولی اور کم اہمیت کا حامل معاملہ قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے وائس ہاؤس یا دیگر تقریبات کے دوران اپنے حالیہ بیانات میں نائب صدر کے اس موقف کی مکمل حمایت کی ہے جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو باقاعدہ جنگ ماننے سے انکار کیا تھا۔ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد دنیا بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا واشنگٹن تہران کے خلاف کسی بڑے فوجی اقدام سے گریز کر رہا ہے یا یہ محض سیاسی بیان بازی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ اندازِ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوںممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور خطے میں کسی بھی وقت بڑے فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود امریکی صدر کی طرف سے اس طرح کے غیر سنجیدہ الفاظ کا استعمال حالات کی سنگینی کو کم کرنے کے بجائے مزید الجھا رہا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کے تحت اس تنازع کو عوام کی نظروں میں کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے اہم اسٹریٹجک مقامات مثلاً پائیکیکس ماؤنٹین پر بہت جلد حملے کرنے کے امکانات پر بھی غور کر رہا ہے، جبکہ سی آئی اے کی قیادت میں ایران کے اندر حکومت کے خلاف کسی بغاوت کی حمایت کے اختیارات بھی میز پر موجود ہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود، صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تنازع کو 'چھوٹے آلو' قرار دینا سفارتی آداب کے منافی سمجھا جا رہا ہے اور دنیا بھر کے رہنما اس پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔