World
ایل نینو کی سخت وارننگ: دنیا بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا خدشہ
عالمی موسمیاتی تنظیم ڈبلیو ایم او نے خبردار کیا ہے کہ ایک طاقتور ایل نینو اب تک کا سب سے شدید ریکارڈ یافتہ مظہر بن سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومتوں اور شہریوں کو خوراک اور ضروری اشیاء کا ذخیرہ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے ایک ہنگامی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حالیہ طاقتور ایل نینو (El Nino) اپنے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے اور تاریخ کا سب سے طاقتور موسمی مظہر بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدرتی مظہر کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں دنیا بھر میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور شدید موسمیاتی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث زمین پر گرمی کی لہروں میں خطرناک حد تک شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس پیشگوئی کے بعد دنیا بھر کے متعلقہ اداروں اور حکومتوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ برطانوی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ذمہ دار وزراء اور حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر شدید ترین موسمی حالات اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر خوراک اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء کا قبل از وقت ذخیرہ کر لیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شدید موسم کی وجہ سے سپلائی چین یا روزمرہ کے امور میں خلل پڑ سکتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور موسمیاتی اداروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں انتہائی گرمی اور خشک سالی کے علاوہ کہیں کہیں طوفانی بارشیں بھی ہو سکتی ہیں، جس سے زرعی اجناس اور واٹر سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ انسانی جانوں اور معیشت کو بڑے پیمانے پر پہنچنے والے نقصان سے بچایا جا سکے۔ عوام کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہیں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔