World
رچرڈ برانسن کا بیان: جنگوں کے باعث فضائی سفر مہنگا ہو گیا
ورجن کے بانی سر رچرڈ برانسن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جنگیں شروع کرنے والے نادان رہنماؤں کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے تیل کی رسد کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے ہوابازی کی صنعت مشکلات کا شکار ہے۔
برطانوی ایئرلائن ورجن کے بانی سر رچرڈ برانسن نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات اور جنگیں شروع کرنے والے نادان رہنما اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ عام شہریوں کو ہوائی سفر کے لیے اب کہیں زیادہ قیمتیں چکانا پڑ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے سیاسی اور عسکری فیصلوں کی وجہ سے عالمی معیشت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی پیداوار اور اس کی ترسیل کے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں کاروں کے فیول کے ساتھ ساتھ جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ایئرلائنز کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج بن چکا ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ ہوابازی کی صنعت کو بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جب طیاروں میں استعمال ہونے والا ایندھن ہی مہنگا ہو جائے گا تو ایئرلائنز کے لیے پروازیں چلانا اور ٹکట్ల کے پرانے نرخ برقرار رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر مسافروں پر پڑ رہا ہے جنہیں ٹکٹوں کی خریداری کے لیے اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ عالمی برادری اور رہنماؤں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ سفارتی ذرائع سے کشیدگی کو کم کریں تاکہ ایندھن کی منڈیوں میں استحکام آ سکے اور عام آدمی کو اس مہنگائی سے نجات ملے۔ سر رچرڈ برانسن کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ کس طرح سیاسی فیصلے دنیا بھر کے عام شہریوں کی معاشی زندگی کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔