LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی الیکشن: انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی اقتدار کی دوڑ میں شامل

News Image
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی سیکسنی انہالٹ میں تاریخ رقم کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اگر وہ الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو جنگِ عظیم دوم کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ریاستی سطح پر اقتدار سنبھالے گی۔
جرمنی کی سیاست میں ایک اہم اور تاریخ ساز موڑ اس وقت آ سکتا ہے جب انتہائی دائیں بازو کی مقبول جماعت 'آلٹرনেটিভ فار جرمنی' یعنی اے ایف ڈی مشرقی جرمنی کے انتخابات میں کامیابی کے ذریعے پہلی بار ریاستی سطح پر اقتدار حاصل کرنے کے لیے پرامید ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک بڑا الٹ پھیر قرار دے رہے ہیں جس کے گہرے اثرات پوری ملکی سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ جماعت سیکسنی انہالٹ یا کسی اور مشرقی ریاست میں ہونے والے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ جنگِ عظیم دوم کے بعد کا پہلا موقع ہوگا کہ جرمنی میں کسی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کو ریاستی سطح پر اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ملے گا۔ روایتی سیاسی جماعتیں اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں کیونکہ یہ پیش رفت ملک میں جمہوریت اور سیاسی استحکام کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہی ہے۔ دوسری جانب، اے ایف ڈی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ انہیں عام عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے جو موجودہ حکومت کی پالیسیوں، خاص طور پر مہنگائی اور امیگریشن کے مسائل سے تنگ آ چکے ہیں۔ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد روایتی جماعتوں کے متبادل کے طور پر اس انتہائی دائیں بازو کی طرف دیکھ رہی ہے، جس سے انتخابات کے نتائج انتہائی غیر متوقع اور سنسنی خیز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ انتخابات کے یہ نتائج نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ کی سیاست پر طویل المدتی اثرات مرتب کریں گے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر اے ایف ڈی اقتدار میں آنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس سے دیگر یورپی ممالک میں بھی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو تقویت ملے گی، جس سے یورپی یونین کی مجموعی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ آنے والے دن جرمنی کی سیاسی فضا کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔