World
نیپال میں سیلاب اور ہائیڈرو پاور کا بحران
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے ملک کی کل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا دس فیصد سے زائد حصہ معطل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے پن بجلی کے منصوبوں پر حد سے زیادہ انحصار کے خطرات کو کھل کر سامنے لے آیا ہے۔
نیپال میں حالیہ دنوں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس میں توانائی کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ملک میں بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت کا دس فیصد سے زائد حصہ ان سیلابوں کی نذر ہو چکا ہے اور بجلی کی پیداوار معطل ہو گئی ہے۔ نیپال کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات کے لیے دریائی پانی اور ہائیڈرو پاور یعنی پن بجلی پر انحصار کرتے ہیں، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید بارشوں نے اس حکمت عملی پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی شعبے پر اس حد تک انحصار کرنا ملک کی معیشت اور عام زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ قدرتی آفات کی صورت میں پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ بجلی کی پیداوار معطل ہونے سے نہ صرف صنعتی سرگرمیاںست پڑ گئی ہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی طویل بجلی کی کٹائی اور اندھیرے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومتی اداروں اور متعلقہ حکام کے لیے یہ صورتحال ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ مستقبل میں اس طرح کے نقصانات سے بچنے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی غور کریں۔ سولر انرجی، ونڈ پاور اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دیے بغیر ملک کو توانائی کے مستقل استحکام سے ہمکنار کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ نیپال کی حکومت اب متاثرہ پن بجلی گھروں کی مرمت اور بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، تاہم اس عمل میں کافی وقت اور بھاری سرمائے کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر نیپال کو اپنے بنیادی ڈھانچے بالخصوص توانائی کے منصوبوں کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنانا ہوگا تاکہ آئندہ اس قسم کی آفات سے کم سے کم نقصان پہنچے۔