Health
وزن کم کرنے والی جعلی دواؤں کا بڑھتا ہوا رجحان اور بلیک مارکیٹ
وزن میں کمی کے لیے استعمال ہونے والی ایک نئی دوا کی کلینیکل ٹرائلز کے دوران ہی بلیک مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر جعلی کاپیاں فروخت ہونے لگی ہیں۔ اس صورتحال نے طبی ماہرین اور متعلقہ اداروں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
دنیا بھر میں وزن کم کرنے والی ادویات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور شدید قلت نے ایک نئے اور خطرناک بحران کو جنم دیا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو گئی ہے جب وزن گھٹانے کے لیے تیار کردہ ایسی ادویات جو تاحال کلینیکل ٹرائلز کے مرحلے میں ہیں، ان کی جعلی اور غیر مصدقہ کاپیاں بلیک مارکیٹ میں دھڑلے سے فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ ادویات عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں کیونکہ لوگ تیزی سے وزن کم کرنے کے شارٹ کٹس تلاش کر رہے ہیں۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے والی یہ نقلی ادویات نہ صرف غیر مؤثر ہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ چونکہ یہ ادویات سخت طبی نگرانی اور منظور شدہ لیبارٹریوں میں تیار نہیں کی جاتیں، اس لیے ان میں استعمال ہونے والے اجزاء زہریلے یا خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، سوشل میڈیا اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے ان کی خرید و فروخت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
متعلقہ ریگولیٹری حکام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس غیر قانونی کاروبار کو روکنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ طبی ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بغیر کسی مستند ڈاکٹر کے نسخے کے اور غیر مصدقہ ذرائع سے وزن کم کرنے والی ادویات خریدنے سے گریز کریں۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کس طرح تجارتی مفاد اور انسانی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صحت عامہ کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔