World
مائیکل اوون کا بچوں سے محبت کا اظہار نہ کرنے کا بیان اور بحث
برطانوی فٹبالر مائیکل اوون کے اس انکشاف پر کہ وہ اپنے بچوں سے محبت کے الفاظ زبانی بیان نہیں کرتے، معاشرے میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس انٹرویو نے والدین کی تربیت، صنفی روایات اور جذباتی اظہار کی اہمیت پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
برطانیہ کے سابق نامور فٹبالر مائیکل اوون کے ایک حالیہ بیان نے دنیا بھر میں والدین کی تربیت، خاندانی اقدار اور جذباتی اظہار کے طریقوں پر ایک نئی اور دلچسپ بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مائیکل اوون نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ وہ اپنے بچوں سے زبانی طور پر یہ نہیں کہتے کہ وہ ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے عمل اور حمایت کے ذریعے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، لیکن الفاظ کے ذریعے محبت کا اظہار کرنے کا روایتی انداز ان کی شخصیت کا حصہ نہیں ہے۔ ان کے اس اعتراف کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں بعض لوگ اسے پرانے خاندانی پس منظر اور ثقافتی اثرات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، وہیں ماہرینِ نفسیات اس پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس بیان کے سامنے آنے کے بعد ماہرینِ نفسیات اور ماہرینِ تعلیم نے زور دیا ہے کہ بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کے لیے محبت کے الفاظ انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بچوں کو صرف عمل سے نہیں بلکہ باقاعدگی سے زبانی الفاظ میں یہ یقین دلانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ کتنے خاص ہیں اور ان کے والدین ان سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں۔ اس سے بچوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ جذباتی طور پر زیادہ مضبوط بنتے ہیں۔ دوسری طرف، کچھ افراد کا کہنا ہے کہ ہر خاندان اور معاشرے کا اپنا ثقافتی پس منظر ہوتا ہے جہاں جذباتی کا اظہار کرنے کے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں، اور محض زبانی کلمات سے کسی کی محبت کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگایا جا सकता۔
اس بحث میں صنف اور کلچر کا عنصر بھی نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مردوں بالخصوص روایتی کھیلوں کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد میں جذباتی کمزوری یا نرمی کے اظہار کو اکثر کمزوری سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پاتے۔ مائیکل اوون کا یہ اعتراف دراصل اسی روایتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو صدیوں سے معاشرے میں چلی آ رہی ہے۔ اس موضوع نے عام لوگوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا عملی اقدامات کافی ہیں یا پھر محبت کے ان تین چھوٹے الفاظ کی اپنی ایک الگ اور ناگزیر اہمیت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔