LIVE
Loading Breaking News...

آئرلینڈ اور ویلز کے قدیم زمینی پل اور غار فن کی دریافت کی کہانی

News Image
آئرلینڈ میں قدیم غار کے فن کی حالیہ دریافت سے ماہرین نے یہ انکشاف کیا ہے کہ برفانی دور میں ویلز اور آئرلینڈ کے درمیان ایک زمینی پل موجود تھا۔ اس زمینی راستے کی مدد سے پہلے معلوم انسان ویلز سے پیدل چل کر آئرلینڈ پہنچے تھے۔
آئرلینڈ سے ملنے والے قدیم غار کے فن اور آثارِ قدیمہ کی جدید تحقیق نے تاریخ کے ایک نئے باب کو وا کر دیا ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ اس دریافت سے یہ اہم ترین سراغ ملا ہے کہ آئرلینڈ کی سرزمین پر قدم رکھنے والے پہلے معلوم انسان دراصل ویلز سے پیدل چل کر وہاں پہنچے تھے۔ اس انکشاف نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ماضی کے ان گنت رازوں کو از سر نو سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ محققین اور ماہرینِ ارضیات کے مطابق، آخری برفانی دور کے دوران سمندر کی سطح آج کے مقابلے میں کافی کم تھی۔ اس جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے ویلز اور آئرلینڈ کے درمیان ایک طویل زمینی پٹی موجود تھی، جسے ایک 'گمشدہ زمینی پل' کہا جا سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ قدیم قبائل اور شکاری اسی قدرتی راستے کو استعمال کرتے ہوئے ایک خطے سے دوسرے خطے تک سفر کرتے تھے۔ اس تحقیق سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ برفانی دور کے آخری ایام میں انسانی نقل و حرکت کتنی وسیع پیمانے پر جاری تھی۔ اگرچہ اس دور کے حالات انتہائی نامساعد اور سخت سردی پر مشتمل تھے، تاہم قدیم انسان نے زندہ رہنے اور نئے مسکن تلاش کرنے کے لیے سمندر میں موجود اس زمینی راستے کو کامیابی سے عبور کیا۔ اس دریافت سے برطانوی جزائر کی ابتدائی انسانی آبادی کی تاریخ میں ایک اہم کڑی مل گئی ہے۔ آثارِ قدیمہ کی اس ٹیم نے امید ظاہر کی ہے کہ اس خطے میں مزید کھدائی اور سائنسی تجزیوں سے اس قدیم ہجرت کے بارے میں مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ اس سے نہ صرف آئرلینڈ بلکہ پورے یورپ کے قدیم انسانی رویوں اور ان کی نقل و حرکت کے پیٹرن کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی، جو تاریخ کا ایک اور حیرت انگیز باب ثابت ہوگا۔