World
ایران جنگ: ٹرمپ کی پکسیکس ماؤنٹین پر حملے کی نئی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران کے پہاڑی مقام پکسیکس ماؤنٹین کو بہت جلد نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں ایران کے اہم اسٹریٹجک مقام پکسیکس ماؤنٹین کو بہت جلد نشانہ بنانے کی دھمکی دہرائی ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور سفارتی محاذ پر طویل عرصے سے تناؤ چلا آرہا ہے اور خطے میں کسی بھی وقت بڑے تصادم کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اپنے بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اگر تہران کی جانب سے کوئی بھی جوابی یا اشتعال انگیز اقدام کیا گیا تو واشنگٹن انتہائی سخت اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائے گا۔ انہوں نے خاص طور پر پکسیکس ماؤنٹین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عسکری حوالے سے حساس مقام کو بہت جلد نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے اس علاقے کی جغرافیائی و عسکری اہمیت مزید اجاگر ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان مشرق وسطیٰ کے پہلے سے دگرگوں حالات میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے۔ اس دھمکی کے بعد عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی تیز ہونے کا امکان ہے تاکہ کسی بھی بڑی تباہی یا جنگی تصادم کو روکا جا سکے کیونکہ اس خطے میں کسی بھی قسم کی جنگ کے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔