Technology
لاس اینجلس اسکولوں میں جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجی پر پابندی
لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ نے طلباء کے لیے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ اس غیر متوقع فیصلے نے کئی اسکول بورڈ ممبران کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔
لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ (LAUSD) نے تعلیمی اداروں میں طلباء کی جانب سے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے استعمال پر ایک سخت اور حیرت انگیز پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت موجودہ تعلیمی سال کے لیے اسکولوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر موراتوریم نافذ کر دیا گیا ہے، جس پر کئی اسکول بورڈ ممبران نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کیونکہ انہیں اس فیصلے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ ڈسٹرکٹ کے اس اقدام نے تعلیمی اور تکنیکی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے کہ آیا اسکولوں میں جدید ٹیکنالوجی کو روکنا درست فیصلہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی طلباء کے تعلیمی معیار، سیکھنے کی صلاحیت اور امتحانات میں دیانت داری کو برقرار رکھنے کے لیے لگائی گئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں جنریٹو اے آئی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے طلباء میں ہوم ورک اور اسائنمنٹس خود لکھنے کے بجائے اے آئی ٹولز پر انحصار خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا۔ ماہرین تعلیم کا ایک طبقہ اس بات پر تشویش کا شکار تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے بے لگام استعمال سے طلباء کی تخلیقی صلاحیتیں اور تنقیدی سوچ متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب، تکنیکی ماہرین اور کچھ اساتذہ کا موقف ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینے کے بجائے اس کے مثبت استعمال کی تربیت دی جانی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور کی طرف بڑھ رہی ہے اور طلباء کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کی خاطر مصنوعی ذہانت کو نصاب کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ پابندی کے اس فیصلے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ڈسٹرکٹ مستقبل میں اس پالیسی پر نظرثانی کرتا ہے یا نہیں اور دیگر اسکول اضلاع اس کی تقلید کرتے ہیں یا نہیں۔