World
امریکہ اور ایران تعلقات: واشنگتن کو اسٹریٹجک تعطل کا سامنا
سابق امریکی کانگریس تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو تہران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک گہرے اسٹریٹجک تعطل کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واشنگٹن کو ایران کے معاملے پر ایک سنگین اسٹریٹجک تعطل یا 'ڈیڈ اینڈ' کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور یہ بات امریکی کانگریس کے ایک سابق تجزیہ کار کی جانب سے کہی گئی ہے۔ موجودہ حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں روایتی سفارتی اور دباؤ کی پالیسیاں کارگر ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کے خلاف پابندیوں اور عسکری دباؤ کے باوجود واشنگتن اپنے مطلوبہ اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے پالیسی سازوں کے پاس اب محدود اختیارات رہ گئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں، خصوصاً ایرانی جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کے بعد سے یہ خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ سابق امریکی تجزیہ کار کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی حرکیات اور علاقائی اتحادوں پر ازسرنو غور کیا جا رہا ہے۔ چین اور روس جیسے عالمی کھلاڑیوں کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور سفارتی سرگرمیوں نے واشنگتن کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے خطے میں امریکی برتری کو چیلنج مل رہا ہے۔
اس اسٹریٹجک تعطل کے باعث واشنگتن میں پالیسی سازوں کے اندر اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا ایران سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکمت عملی کو جاری رکھا جائے یا کسی نئے اور لچکدار لائحہ عمل کی طرف بڑھا جائے۔ تاہم، سیاسی مجبوریوں اور داخلی دباؤ کی وجہ سے کسی بھی بڑی پالیسی میں تبدیلی لانا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک دونوں فریقین کے مابین کسی قسم کی سنجیدہ اور بامقصد بات چیت کا آغاز نہیں ہوتا، اس وقت تک اس تعطل سے نکلنا تقریباً ناممکن رہے گا اور خطے میں غیر یقینی کی یہ فضا برقرار رہے گی۔