LIVE
Loading Breaking News...

نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں 2.58 روپے فی یونٹ اضافہ

News Image
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس نئے اضافے سے صارفین کے بجلی کے بلوں میں مزید بھاری بوجھ پڑے گا۔
اسلام آباد: پاکستان کے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرادیا گیا ہے کیونکہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 2.58 روپے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اضافہ ماہانہ اور سہ ماہی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے جس کے بعد ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ پہلے ہی سے آسمان کو چھوتی مہنگائی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے درمیان گھری عوام کے لیے یہ نیا اضافہ کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہے۔ ملک کے بڑے اخبارات اور خبر رساں اداروں کے مطابق اس تازہ ترین فیصلے سے صنعتی اور گھریلو دونوں قسم کے صارفین متاثر ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اس اضافے کا مقصد پاور سیکٹر کے مالیاتی خسارے کو پورا کرنا اور گردشی قرضوں کو کم کرنا ہے۔ تاہم اس فیصلے سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ فکسڈ ٹیکس اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے باعث پہلے ہی صارفین کو بھاری بھرکم بل موصول ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے مختلف طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ تجارتی اور صنعتی حلقوں نے بھی بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات نہ کی گئیں اور لائن لاسز پر قابو نہ پایا گیا تو اس طرح کے اضافے عوام پر مزید مالی بوجھ بنتے رہیں گے۔ متوقع طور پر اس فیصلے کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی لہر بھی دیکھ سکتی ہے کیونکہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔