LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم کی خاموشی پر پیپلز پارٹی کا سوال، نئے صوبوں کی بحث تیز

News Image
پاکستان پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث اور اس پر وزیراعظم شہباز شریف کی خاموشی پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے اس معاملے پر پیپلز پارٹی پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا ہے۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس اہم معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی خاموشی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا انتظامی بہتری اور گورننس کے معیار کو بلند کرنے کے لیے ملک میں چھوٹے صوبے بنائے جانے چاہئیں یا نہیں۔ اس تمام صورتحال کے دوران پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم کی جانب سے اس حساس موضوع پر کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔ دوسری جانب اس بحث کے ردعمل میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے پاکستان پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر 'دوہرے معیار' کا الزام عائد کیا ہے۔ ن لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک طرف تو صوبوں کے حوالے سے مبہم بیانات دیتی ہے اور دوسری طرف عملی طور پر اس معاملے پر تعاون سے گریزاں ہے۔ دوسری پیشرفت میں سندھ اسمبلی کے اندر بھی صوبے کی تقسیم کے خلاف ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سندھ ایک اکائی ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا، اس کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ علاوہ ازیں، مسلم لیگ ن کے سابق رہنما محمد سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے بھی سندھ کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بہتر گورننس اور انتظامی ضروریات کے لیے ملک میں چھوٹے صوبوں کی ضرورت پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے، تاہم اس عمل میں مالیاتی اخراجات اور آئینی پیچیدگیوں کے حوالے سے شدید خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اس موضوع پر کشمکش میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔