World
امریکہ کی جانب سے ترکی کے بینک اور اداروں پر ایران مخالف پابندیاں
امریکہ نے ایران کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ترکی میں قائم ایک بینک اور اس کے دو ذیلی اداروں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھانا اور اس کے مالیاتی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔
امریکہ کی حکومت نے ایران پر جاری اقتصادی دباؤ کو مزید تیز کرتے ہوئے ترکی میں قائم ایک بینک اور اس کے دو اہم ذیلی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم تہران کے خلاف واشنگٹن کی جاری اسٹریٹجی کا حصہ ہے جس کا مقصد ایران کے مالیاتی نیٹ ورک کو کمزور کرنا اور اس کے بین الاقوامی تجارتی راستوں کو مسدود کرنا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ کے اس 'اکنامک آؤٹ کاسٹ' آپریشن کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی مل رہی ہے اور یورپی یونین کی جانب سے بھی اس نوعیت کے اقدامات کی حمایت کی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئی لہر کے بعد ان تمام غیر ملکی کمپنیوں اور اداروں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جو تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کے تجارتی یا مالیاتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل بھی امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایرانی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے خلاف متعدد پابندیاں لگائی جا چکی ہیں، جن کا مقصد ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور خطے میں مبینہ سرگرمیوں سے باز رکھنا ہے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی اس بدلتی ہوئی معاشی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی پابندیوں کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی سیاست اور معیشت پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کے اس بینک اور ذیلی اداروں پر پابندیوں کے بعد انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی سطح پر بھی بعض امور پر بات چیت متوقع ہے۔ تاہم امریکہ کا یہ سخت موقف واضح کرتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی اقتصادی مہم میں کسی بھی قسم کی نرمی برتنے کے لیے تیار نہیں ہے، اور آنے والے دنوں میں اس قسم کی مزید پابندیوں کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔