LIVE
Loading Breaking News...

امریکی معیشت: روزگار کی بہتری اور ڈیزل کی بلند ترین قیمتیں

News Image
امریکہ میں ملازمتوں کے شعبے میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے تاہم ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافے نے معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور نئی امریکی ایران کشیدگی نے توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
امریکہ میں حالیہ معاشی اشاریوں نے ایک ملا جلا منظرنامہ پیش کیا ہے جہاں ایک طرف روزگار کے مواقع میں بہتری ریکارڈ کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ایندھن، خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام اور کاروباری طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ان کی جماعت کے لیے درمیانی مدت کے سیاسی اور معاشی میدان میں ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملازمتوں کی فراہمی میں استحکام آیا ہے، تاہم روزمرہ استعمال کی اشیا کی نقل و حمل کی لاگت بڑھنے سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی قیمتیں تمام پچھلے ریکارڈ توڑتے ہوئے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اس طوفانی اضافے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ اور حالیہ امریکی ایرانی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین حملوں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہ راست اثر امریکی ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑا ہے۔ ٹرکنگ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھنے سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، اور اس کے نتیجے میں خوراک سمیت تمام تر اشیائے خوردونوش اور صنعتی پیداوار کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ امریکہ بھر کے صارفین اور تجارتی حلقے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک طرف شہریوں کو نوکریوں کے لحاظ سے کچھ ریلیف ضرور مل رہا ہے، لیکن دوسری طرف پمپوں پر ڈیزل کے بڑھتے ہوئے دام ان کی بچتوں کو نچوڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے ان بحرانوں پر قابو نہ پایا گیا تو یہ معاشی بوجھ سیاسی سطح پر حکمران جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ووٹرز عام طور پر مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کو براہ راست حکومت کی کارکردگی سے جوڑتے ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں انتظامیہ پر دباؤ مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات کا تقاضا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ دی جائے اور تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ بصورت دیگر، روزگار کے شعبے میں ہونے والی معمولی ترقی بھی ڈیزل کے مہنگے ہونے سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے سامنے ماند پڑ جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ کڑا وقت ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھیں تاکہ معاشی پالیسیوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں اور مہنگائی کے طوفان کو روکا جا سکے۔