World
کولوراডো دریا پانی بحران: امریکہ کی تین ریاستوں کے لیے کٹوتی کی تجویز
امریکہ نے کولوراডো دریا کے پانی کے استعمال میں ایریزونا، کیلیفورنیا اور نیواڈا کے لیے نمایاں کٹوتی کی تجویز دی ہے۔ یہ اقدام دریا میں تاریخی پانی کی کمی اور 1957 کے بعد سب سے نچلی سطح پر پہنچنے والے ذخائر کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
امریکہ کی وفاقی حکومت کی جانب سے کولوراডো دریا کے پانی کے استعمال میں کمی کے حوالے سے ایک نئی اور اہم تجویز سامنے آئی ہے۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد ایریزونا، کیلیفورنیا اور نیواڈا جیسی بڑی ریاستوں میں پانی کی کھپت کو کم کرنا ہے تاکہ اس اہم آبی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ حالیہ برسوں کے دوران آب و ہوا کی تبدیلی اور قلتِ آب کی وجہ سے یہ دریا شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ہنگامی تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کولوراডো دریا کو ایک تاریخی اور غیر معمولی پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ اس دریا کے آبی ذخائر اور جھیلیں 1957 کے بعد اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات طویل عرصے سے خبردار کر رہے تھے کہ اگر پانی کے بے دریغ استعمال کو فوری طور پر روکا نہ گیا تو آنے والے دنوں میں کروڑوں افراد کو پینے کے پانی اور زراعت کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس نئی تجویز کے تحت تینوں متاثرہ ریاستوں کو اپنے حصے کے پانی کے استعمال میں رضاکارانہ یا لازمی طور پر نمایاں کمی کرنا ہوگی۔ وفاقی حکام تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسا متوازن لائحہ عمل تیار کیا جا سکے جو اس خطے میں پانی کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنا سکے۔ کٹوتی کے اس عمل سے اگرچہ وقتی طور پر زرعی شعبے اور مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم طویل مدت میں یہ اقدام خطے کو بڑے ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔