LIVE
Loading Breaking News...

ریفارم پارٹی کا انکم ٹیکس چھوٹ پندرہ ہزار پاؤنڈ کرنے کا اعلان

News Image
ریفارم پارٹی نے اقتدار میں آنے پر ذاتی انکم ٹیکس فری الاؤنس کو بڑھا کر پندرہ ہزار پاؤنڈ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس مجوزہ ٹیکس کٹ کی مالی معاونت کے لیے سرکاری اخراجات میں اسی ارب پاؤنڈ کی کٹوتی کی جائے گی۔
برطانیہ کی سیاسی فضا میں اس وقت بحث کا نیا باب کھل گیا ہے جب ریفارم پارٹی نے اپنے مالیاتی منصوبوں کے تحت ٹیکسوں میں نمایاں کمی لانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے سامنے آنے والے اس نئے پالیسی بیان کے مطابق، اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو ذاتی انکم ٹیکس فری الاؤنس کی حد کو بڑھا کر پندرہ ہزار پاؤنڈ کر دیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد متوسط طبقے اور عام شہریوں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں مالیاتی ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی قوت خرید میں بہتری لائی جا سکے۔ اس بڑے ٹیکس کٹ کے نفاذ کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے یہ نکتہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کی مالی معاونت کے لیے ملک کے مجموعی سرکاری اخراجات میں اسی ارب پاؤنڈ کی بڑی کٹوتی کی جائے گی۔ معاشی ماہرین اور سیاسی ناقدین اس تجویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ سرکاری اخراجات میں اتنی بڑی کٹوتی کرنا ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ عمل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، پارٹی قیادت کا اصرار ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف قابل عمل ہے بلکہ ملک کی معیشت کو بہتر راستے پر ڈالنے کے لیے ناگزیر بھی ہے تاکہ عوام کو بلاجواز ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات دلائی جا سکے۔ اس اعلان کے بعد برطانوی سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس پالیسی کے ممکنہ اثرات پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہی ہیں۔ عام شہریوں اور ٹیکس دہندگان کی طرف سے اس تجویز کو ملا جلا ردعمل ملا ہے، جہاں ایک طرف ٹیکس میں کمی کی خوشی پائی جاتی ہے وہیں دوسری طرف سرکاری اخراجات میں کٹوتی کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کو مزید سجا سنوار کر عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا اور انتخابی مہم کے دوران یہ ایک اہم موضوع بنے گا۔