World
یورپی ممالک کی جانب سے شمالی امریکہ سے سونے کی واپسی کی وجہ
ہالینڈ سمیت کئی یورپی ممالک نے اپنے سونے کے ذخائر شمالی امریکہ سے واپس اپنے ملک منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ملکی اثاثوں کو محفوظ بنانا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان اب ایک ایسا رجحان سامنے آیا ہے جس نے ماہرینِ معاشیات کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ کئی یورپی ممالک نے اپنے سونے کے ذخائر جو طویل عرصے سے شمالی امریکہ کے محفوظ مقامات پر رکھے گئے تھے، اب انہیں اپنے وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہالینڈ نے سب سے نمایاں قدم اٹھاتے ہوئے تقریباً چھیاسی ٹن سونا واپس اپنے ملک منتقل کر لیا ہے، جس کے بعد اس عمل کے محرکات پر دنیا بھر میں بحث چھڑ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ کئی یورپی حکومتوں کی مشترکہ سوچ کا عکاس ہے جو اپنے قومی اثاثوں کو اپنے براہ راست کنٹرول میں لانا چاہتی ہیں۔ سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد کے برسوں میں حفاظتی وجوہات کی بنا پر یورپی ممالک نے اپنے سونے کے بڑے ذخائر بیرونِ ملک محفوظ بنائے تھے، خاص طور پر امریکی اور کینیڈین تنصیبات میں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور مالیاتی نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کے پیش نظر، حکومتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ ملکی دولت کو کسی بھی بیرونی خطرے سے بچانے کے لیے ملکی حدود میں ہی رکھا جائے۔ ہالینڈ کے مرکزی بینک کی جانب سے اس منتقلی کی تصدیق کے بعد دیگر یورپی ممالک میں بھی اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا انہیں بھی اپنے اثاثے واپس منگوا لینے چاہئیں۔ اس پوری صورتحال نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا مستقبل میں عالمی مالیاتی نظام کسی بڑے انحراف یا نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔