World
امریکہ کی ترک بینک پر پابندی اور ترکیہ کا ردعمل
امریکہ نے ایران کے ساتھ مبینہ تعلقات اور تفتيش کے بعد ایک ترک بینک پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس اقدام کے جواب میں ترکیہ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔
امریکہ کی حکومت نے ایران کے ساتھ مبینہ مالیاتی روابط اور پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے لیے فنڈز کی مبینہ ترسیل کے الزام میں ایک ترک بینک پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ واشنگٹن کی طرف سے اٹھائے گئے اس قدم کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس پابندی کے معاشی اثرات وسیع پیمانے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق، اس بینک نے تہران کے لیے مبینہ طور پر لاکھوں ڈالر کے ٹرانزیکشنز کی سہولت کاری کی ہے، جو بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسری جانب، ترکیہ کی حکومت اور متعلقہ بینک نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ انقرہ نے اس امریکی اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اس یکطرفہ فیصلے کے خلاف تمام ممکنہ قانونی راستے اختیار کرے گا تاکہ ملکی معیشت اور مالیاتی اداروں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ بینکاری اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تنازعے کے دونوں ممالک کے دوطرفہ اور تجارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سفارتی سطح پر مزید بات چیت متوقع ہے۔