World
پاکستان ہسپتال آتشزدگی: بہادر نرس کی دردناک یادیں
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں نرسری کے دوران پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں ایک نرس نے جان جوکھوں میں ڈال کر ایک نومولود کو بچایا۔ وہ ان چودہ معصوم بچوں کو نہ بچانے پر شدید صدمے اور غم کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے ایک بہادر نرس نے اس رات کی ہولناک تفصیلات بیان کی ہیں جب آگ نے ہسپتال کے نرسری وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس ہنگامہ خیز اور اندوہناک صورتحال میں نرس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک نومولود بچے کو بچانے میں کامیابی حاصل کی، تاہم وہ باقی چودہ معصوم بچوں کو بچانے سے قاصر رہیں جو اس المناک حادثے کا شکار ہوگئے۔ واقعے کی یاد تازہ کرتے ہوئے نرس نے بتایا کہ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ وارڈ کے اندر چیخ و پکار مچ گئی اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ نرس نے انتہائی عزم اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شعلوں اور دھوئیں کے باوجود ایک بچے کو بحفاظت باہر نکالا، لیکن بدقسمتی سے باقی نوزائیدہ بچوں کو نکالنے کے تمام راستے بند ہوچکے تھے یا حرارت اور دھوئیں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ وہ مزید بچوں تک نہیں پہنچ سکیں۔ اس سانحے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے اور ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ماہرین اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے حساس طبی مراکز میں فائر سیفٹی کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی غفلت یا حادثے کی وجہ سے ایسے قیمتی اور معصوم جانوں کا نقصان نہ ہو۔ بہادر نرس کا یہ بیان سوشل میڈیا اور خبروں کی زینت بن چکا ہے جہاں لوگ ایک طرف ان کی ذاتی شجاعت کی تحسین کر رہے ہیں تو دوسری طرف اس المیے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار بھی جاری ہے۔