LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کا افریقہ کے اصل سائز کے نقشے کی منظوری کا فیصلہ

News Image
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک نئی قرارداد کی منظوری دی ہے جس کے تحت ایسے نقشے استعمال کیے جائیں گے جو افریقہ کا اصل اور درست سائز ظاہر کرتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صدیوں پرانے استعماری نقشوں میں پائے جانے والے توازن اور پیمانے کے نقائص کو درست کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے حال ہی میں ایک اہم اور تاریخی قرارداد کی منظوری دی ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں استعمال ہونے والے جغرافیائی نقشوں میں افریقہ براعظم کے اصل اور حقیقی سقبے کو اجاگر کرنا ہے۔ روایتی طور پر دنیا بھر کے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں مرکیٹر پروژیکشن (Mercator Projection) پر مبنی نقشے استعمال کیے جاتے رہے ہیں، جن میں افریقہ سمیت خط استوا کے قریب واقع کئی خطوں کے حجم کو ان کے حقیقی سائز سے کافی چھوٹا دکھایا جاتا تھا۔ اس طویل عرصے سے چلی آ رہی تکنیکی خرابی کو درست کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدیوں پرانے استعماری دور کے یہ نقشے دنیا کے زمینی تناسب کا غلط تاثر پیش کرتے تھے، جس سے نہ صرف جغرافیائی تعلیم بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے تھے۔ نئے منظور شدہ نقشوں کے ذریعے افریقہ کے اصل رقبے کو نمایاں کیا جائے گا، جو حقیقت میں شمالی امریکہ اور یورپ کے مشترکہ رقبے سے بھی بڑا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس اقدام کا مقصد نقشہ سازی میں انصاف اور حقیقت پسندی کو فروغ دینا ہے تاکہ دنیا بھر کے طلباء اور محققین کو زمین کی درست عکاسی فراہم کی جا سکے۔ اس تبدیلی سے عالمی نقشوں میں توازن قائم ہوگا اور افریقہ کے جغرافیائی اور معاشی مقام کو اس کے اصل تناسب کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے گا۔ بین الاقوامی برادری اور بالخصوص افریقی ممالک کی طرف سے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، اور اسے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے جاری تعصبات اور غلط فہمیوں کا ازالہ کرے گا۔