LIVE
Loading Breaking News...

غزہ کی تباہی اور بحیرہ روم میں کائی کا بحران، ماہرین کے انکشافات

News Image
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کے نکاسی آب کے نظام کی تباہی کے نتیجے میں بحیرہ روم میں سمندری کائی کے بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال سے سمندری حیات اور خطے کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سائنسدانوں نے ایک تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نکاسی آب یعنی سیوریج کے نظام کی مکمل تباہی نے ممکنہ طور پر بحیرہ روم میں کائی کے پھیلاؤ کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ محققین کے مطابق، بنیادی ڈھانچے کے انہدام کے نتیجے میں آلودہ اور بغیر علاج شدہ پانی براہ راست سمندر میں شامل ہو رہا ہے، جس سے ماحولیاتی توازن شدید متاثر ہوا ہے۔ اس صورتحال نے خطے کے سمندری ماحول کے لیے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے اور آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ غزہ میں جاری طویل تباہی اور جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف انسانی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے بلکہ وہاں کا شہری اور ماحولیاتی ڈھانچہ بھی ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور نکاسی آب کی لائنیں تباہ ہونے کی وجہ سے انسانی فضلہ اور صنعتی آلودگی بغیر کسی رکاوٹ یا صفائی کے کھلے عام سمندر میں جا رہی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس آلودہ پانی میں موجود نامیاتی مادے اور غذائی اجزاء سمندر میں کائی کی غیر معمولی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ بحیرہ روم میں اس طرح کائی کا حد سے زیادہ بڑھ جانا نہ صرف پانی کے معیار کو خراب کرتا ہے بلکہ یہ سمندری مخلوق کے لیے آکسیجن کی سطح میں کمی کا سبب بھی بنتا ہے۔ کائی کے اس قدرتی توازن سے ہٹ کر پھیلنے والے اس بحران کو 'ایلجی بلوم' کہا جاتا ہے، جو زہریلے اثرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف مچھلیوں اور دیگر آبی جانداروں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ساحلی علاقوں کے ماحولیاتی نظام اور وہاں کے باسیوں کی صحت کے لیے بھی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی ماہرین اور ماحولیاتی تنظیموں نے اس سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر جنگ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر غزہ میں سیوریج کے نظام کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا اور آلودگی کے سمندر میں جانے کو نہ روکا گیا، تو بحیرہ روم کے ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والا نقصان طویل مدت تک ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔