LIVE
Loading Breaking News...

ایتھوپیا کے ٹگرے میں کشیدگی اور امن معاہدے کے بعد کے حالات

News Image
سنہ 2022 کے امن معاہدے نے ایتھوپیا میں خونریز جنگ کا خاتمہ تو کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود کئی اہم تنازعات حل طلب رہے۔ ان غیر حل شدہ مسائل کی وجہ سے ٹی پی ایل ایف کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل گیا ہے اور اب کشیدگی میں پھر سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ایتھوپیا کے خطے ٹگرے میں سنہ 2022 کے تاریخی امن معاہدے کو ایک طویل المدتی تنازع کے خاتمے کی علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں۔ اس معاہدے نے باضابطہ جنگ کو تو روکا لیکن اس کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں اور اہم تنازعات کو غیر حل شدہ چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے خطے میں ایک بار پھر بے یقینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ معاہدے کے بعد پیدا ہونے والے اس خلا اور انتظامی کمزوریوں نے فریقین کو نئی صف بندی کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ٹگرے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کو اس صورتحال میں ایک بار پھر خود کو منظم کرنے اور سیاسی و عسکری طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پرانے دشمنوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا بدستور برقرار ہے اور کسی بھی فریق کی طرف سے حتمی حل کے لیے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔ اس وجہ سے دونوں اطراف سے کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے جو کہ خطے میں ایک بار پھر بدامنی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور علاقائی تنظیمیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ایتھوپیا جیسے اہم افریقی ملک میں عدم استحکام پورے خطے کے امن کو متاثر کر سکتا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین نے بات چیت کے دروازے کھلے نہ رکھے اور پرانے تنازعات کا پائیدار سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا، تو پچھلے امن معاہدے کے تمام ثمرات ضائع ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور ٹگرے کی قیادت اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔