World
ایکواڈور کا امریکی کارروائی کا دفاع، منشیات مخالف آپریشن قرار
ایکواڈور کی حکومت نے امریکی افواج کی جانب سے سمندری جہازوں کو نشانہ بنانے اور ڈوبنے کے واقعے کو ایک باقاعدہ مشترکہ انسدادِ منشیات آپریشن قرار دیا ہے۔ دوسری طرف حراست میں لیے گئے عملے کے اہلِ خانہ نے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار افراد ملاح تھے نہ کہ اسمگلر۔
ایکواڈور کی حکومت نے حال ہی میں سمندر میں امریکی افواج کی جانب سے مشکوک کشتیوں کو نشانہ بنانے اور انہیں ڈوبنے کے واقعے پر باضابطہ ردعمل دیتے ہوئے اس کارروائی کا دفاع کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے ایک مشترکہ انسدادِ منشیات آپریشن کے تحت اٹھایا گیا تھا جس کا مقصد خطے میں منشیات کی غیر قانونی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو مؤثر طریقے سے ناکام بنانا ہے۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام اقدامات طے شدہ دو طرفہ تعاون اور سمندری سلامتی کے معاہدوں کے دائرہ کار میں کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب اس کارروائی کے بعد ایکواڈور میں شدید بحث اور عوامی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حراست میں لیے گئے اور متاثرہ کشتیوں کے عملے کے غریب رشتہ داروں نے امریکی اور ملکی فورسز کی کارروائیوں پر کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔ لواحقین کا مؤقف ہے کہ امریکی افواج نے کسی بھی واضح اور مصدقہ ثبوت کے بغیر یہ سخت قدم اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کا منشیات کی اسمگلنگ یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا بلکہ وہ عام اور غریب ملاح تھے جو اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے سمندر میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔
اہل خانہ نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایکواڈور کے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ بے گناہ شہریوں کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے عزیزوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس متنازعہ کارروائی نے اب خطے میں سکیورٹی فورسز کے اختیارات اور سمندر میں عام ماہی گیروں کے حقوق سے متعلق نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔