Politics
خواجہ آصف کا نئے صوبوں اور اختیارات کی منتقلی پر اہم بیان
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کو متضاد پالیسی اپنانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اب ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے، اور موجودہ فرسودہ نظام کو درست کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کا موقف تضادات کا شکار ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جب پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات کی جاتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے یا نرم گوشہ رکھتی ہے، لیکن جب چار صوبوں کے علاوہ مزید انتظامی اکائیوں کی بات کی جائے تو سندھو دیش کی آوازیں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق اس دوہری پالیسی کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں جن پر وقت آنے پر مزید بات کی جائے گی۔
خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت میں شامل اہم اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے وزیراعظم شہباز شریف سے نئے صوبوں کے بحث کے معاملے پر خاموشی توڑنے اور اپنا واضح مؤقف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی ہے جس میں ملک کے موجودہ چار صوبوں کی کسی بھی مزید تقسیم کی بھرپور مخالفت کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سندھو دیش تحریک کے خلاف جمع کرائی جانے والی قرارداد کو روکنے پر بھی سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے اور پیپلز پارٹی نے اس اقدام کو عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور اٹھارہویں ترمیم کے تحت اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا فیصلہ آئینی طور پر طے پایا تھا جس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ اس اصول کو دیانت داری کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ چاہے صوبے کہیں یا انتظامی اکائیاں، ملک کی موجودہ چھتیس ڈویژنوں یا کسی اور انتظامی و جغرافیائی اسکیم کو بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ نظام مرکزیت کی وجہ سے فرسودہ ہو چکا ہے جسے جلد تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ فی الحال نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی باضابطہ تیاریاں یا تجاویز زیر غور نہیں ہیں اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ہوگا اور آئینی طریقہ کار کے مطابق دو تہائی اکثریت سے قانون سازی درکار ہوتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان اس نوعیت کے بیانات آنے والے دنوں میں سیاسی تعلقات اور آئینی بحثوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔