Business
نیپرا کا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، فی یونٹ نرخ بڑھ گئے
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ستمبر کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی چارجز کی مد میں بجلی مزید مہنگی کر دی ہے۔ اس نئے اضافے سے صارفین پر تقریباً چھیالیس ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک بار پھر بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں دو روپے اٹھاون پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت صارفین کو ستمبر کے مہینے میں بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی چارجز کی مد میں مجموعی طور پر تقریباً چھیالیس ارب روپے کا اضافی بوجھ عوام پر ڈالا گیا ہے۔ ریگولیٹر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جولائی کے مہینے کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں دو روپے چھ پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ باون پیسے فی یونٹ کا سہ ماہی چارجز کا اضافی بوجھ اگلے تین ماہ تک جاری رہے گا۔ ماہرین کے مطابق جولائی کے ایف سی اے کا اکیلے حجم تقریبا تینتیس ارب روپے بنتا ہے جو کہ بنیادی طور پر اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگے ایل این جی کی خریداری کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ بارہ ارب ستر کروڑ روپے کے قریب سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی صارفین سے وصول کی جائے گی۔ نیپرا کے اس لفت نائٹ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ تمام اضافے کے ستمبر کے بلوں میں وصول کیے جائیں گے، جبکہ باون پیسے فی یونٹ کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں نافذ العمل رہے گی۔ تاہم، ریگولیٹری اتھارٹی نے اس طوفانی مہنگائی میں کچھ زمروں کے صارفین کو ریلیف بھی فراہم کیا ہے۔ لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز (ای وی سی ایس) اور پری پیڈ بجلی کے صارفین کو اس اضافے سے استثنیٰ دیا گیا ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے اور متبادل توانائی کے فروغ کو نقصان نہ پہنچے۔ ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جولائی دو ہزار چھبیس کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کو ستمبر کے ماہانہ بلوں میں لازمی طور پر ظاہر کریں۔ واضح رہے کہ ملک میں بجلی کے ترسیلی نظام، کیپسٹی چارجز اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث صارفین کو ہر ماہ اس طرح کے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے عام آدمی کا جینا محال ہوتا جا رہا ہے۔