LIVE
Loading Breaking News...

گوگل ڈیپ مائنڈ جیمنی روبوٹس ٹو ماڈل سیریز

News Image
گوگل کی مصنوعی ذہانت کی تحقیقی لیب ڈیپ مائنڈ نے ہیومنائڈ روبوٹس کو چلانے کے لیے جدید ترین جیمنی روبوٹس ٹو ماڈل سیریز کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے متعدد خود مختار مشینیں پیچیدہ کاموں کو انجام دینے کے لیے باہم تعاون کر سکیں گی۔
البتہ انکارپوریشن کی مصنوعی ذہانت کی معروف تحقیقی لیب، گوگل ڈیپ مائنڈ نے ہیومنائڈ روبوٹس کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے جیمنی روبوٹس ٹو (Gemini Robotics 2) ماڈل سیریز باضابطہ طور پر متعارف کرا دی ہے۔ یہ جدید ترین ماڈلز خاص طور پر اس انداز میں تیار کیے گئے ہیں تاکہ انسانی شکل اور ساخت کے حامل روبوٹس کو انتہائی پیچیدہ ماحول میں زیادہ مؤثر طریقے سے چلایا جا سکے۔ اس اقدام کو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی صنعت میں ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، نئی جیمنی روبوٹس ٹو سیریز اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ متعدد خود مختار مشینیں یا روبوٹس کسی ایک مشترکہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکیں۔ روایتی روبوٹکس سسٹمز کے برعکس، یہ نئے ماڈلز مختلف قسم کے فزیکل ٹاسکس کو مربوط طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے صنعتی اور تجارتی شعبوں میں پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی آمد سے روبوٹس کو حقیقی دنیا کے حالات میں کام کرنے کے لیے زیادہ بہتر رہنمائی ملے گی۔ گوگل کا یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ کمپنی اے آئی اور روبوٹکس کے امتزاج کو روزمرہ زندگی اور صنعتی وژن کا حصہ بنانے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔ جیسے جیسے ان ماڈلز کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، توقع ہے کہ دنیا بھر میں روبوٹکس کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کی رفتار مزید تیز ہو جائے گی، جس سے مستقبل کے سمارٹ کارخانوں اور سروس سیکٹر میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔