LIVE
Loading Breaking News...

نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ اضافے کا اعلان کردیا

News Image
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اضافے سے ملک بھر کے صارفین کے ماہانہ بجلی کے بلوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق نیپرا کے اس فیصلے سے ملک بھر کے بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا کیونکہ مختلف رپورٹس کے مطابق فی یونٹ قیمت میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ معاشی چیلنجز کے اس دور میں بجلی کے نرخوں میں ہونے والا یہ اضافہ عام آدمی اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں حالیہ ایڈجسٹمنٹس کے تحت بڑھائی گئی ہیں جن کا اطلاق ملک بھر کے تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین پر ہوگا۔ اس سے قبل بھی حکومت اور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ کیا جا चुका ہے تاکہ توانائی کے شعبے کے مالی خسارے کو پورا کیا جا سکے۔ تاہم عوام کی جانب سے مسلسل مہنگائی اور بالخصوص بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کے خلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور متعلقہ حکام کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں حکومت نے تاجروں پر فکسڈ ٹیکس چھوٹ اور بعض بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سے متعلق ریلیف کے اقدامات بھی کیے تھے لیکن عالمی مارکیٹ میں توانائی کے ذرائع کی قیمتوں اور ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر نرخوں میں ردوبدل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور گردشی قرضے پر قابو پائے بغیر اس مسئلے کا مستقل حل مشکل دکھائی دیتا ہے۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے نہ صرف گھریلو صارفین کا ماہانہ بجٹ درہم برہم ہوگا بلکہ اس سے صنعتی پیداوار بھی متاثر ہوگی۔ صنعتوں کے لیے بجلی کی زیادہ قیمتیں ملکی مصنوعات کو بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر مسابقتی بنا دیتی ہیں جس سے برآمدات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حکومت کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے شرائط پر عمل درآمد اور عام شہریوں کو مہنگائی کے طوفان سے بچانا ہے۔