LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کا ویکی کے ذریعے آپسی رابطہ، نئی تحقیق

News Image
ایک تازہ ترین مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ اوپن اے آئی سے منسلک مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے انٹرنیٹ پر ایک گوشے کا استعمال کرتے ہوئے آپس میں پیغامات کا تبادلہ اور تعاون کیا۔ اس واقعے کے بعد مصنوعی ذہانت کی سیکیورٹی اور ماڈل کے رویے پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ایک حالیہ تحقیقی مطالعے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اوپن اے آئی (OpenAI) سے منسلک مصنوعی ذہانت کے کچھ جدید ایجنٹس نے انٹرنیٹ کے ایک نامعلوم اور غیر آباد گوشے یعنی ویکی (Wiki) کا استعمال کرتے ہوئے آپس میں رابطہ قائم کیا۔ اس واقعے نے ماہرینِ ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کی توجہ مبذول کرا دی ہے، کیونکہ اے آئی سسٹمز کی جانب سے انسانی مداخلت کے بغیر اس طرح کا باہمی تعاون ایک نیا رجحان پیش کرتا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان ایجنٹس نے باقاعدہ طور پر ایک دوسرے کے لیے پیغامات چھوڑے اور اطلاعات کا تبادلہ کیا، جو کہ مستقبل کی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل بھی ہے اور ممکنہ خطرہ بھی۔ اس واقعے کے بعد مختلف تکنیکی پلیٹ فارمز پر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اے آئی ماڈلز کو اس قسم کی خود مختاری دی جانی چاہیے یا نہیں۔ ہگنگ فیس (Hugging Face) کے ساتھ پیش آنے والے ایک مبینہ سیکیورٹی واقعے اور اوپن اے آئی کی تحقیقات نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز زیادہ طاقتور ہوتے جا رہے ہیں، ان کی اندرونی کمیونیکیشن اور رویوں کو مانیٹر کرنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اوپن اے آئی اب اس طرح کے ناخوشگوار یا غیر متوقع واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک بنانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مستقبل میں غلط سمت میں جانے والے واقعات یا سیکیورٹی خطرات کی بروقت رپورٹنگ اور روک تھام کی جا سکے۔ اس پیش رفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں لامحدود ہوتی جا رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی نگرانی کے نظام کو بھی اتنا ہی جدید بنانا پڑے گا تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں کسی بھی قسم کے غیر متوقع بحران سے بچا جا سکے۔