LIVE
Loading Breaking News...

عالمی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، ایف اے او کی تشویشناک رپورٹ

News Image
اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں خوراک کی قیمتیں 2022 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس اضافے کی اہم ترین وجوہات میں جاری عالمی تنازعات اور شدید موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں جن سے رسد کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں خوراک کی قیمتیں سال 2022 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیچھے بنیادی طور پر جاری عالمی تنازعات اور شدید موسمیاتی تبدیلیاں کارفرما ہیں جن کی وجہ سے زرعی اجناس کی سپلائی کا نظام شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے مختلف خطہوں میں جاری جنگی صورتحال نے زرعی پیداوار اور اس کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے براہ راست اثرات عالمی منڈیوں پر پڑ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں مکئی اور سویا بین سمیت بنیادی خوراک اور اجناس کی قیمتوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے، جس سے عام صارفین کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی خشک سالی، سیلاب اور غیر متوقع موسمی حالات نے روایتی کاشتکاری کے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب فصلوں کی بہتر پیداوار کی اشد ضرورت تھی۔ اس صورتحال کے باعث بین الاقوامی منڈیوں میں غذاییت سے بھرپور اشیاء کی دستیابی محدود ہوتی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مہنگائی کی لہر مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین نے بھی متنبہ کیا ہے کہ امریکہ سمیت دنیا کے کئی بڑے ممالک میں گروسری اور خوردنی اشیاء کے نرخوں میں مزید اضافے کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔ رسد کے خطرات بڑھنے اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر دبا بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر حکمت عملی تیار کریں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ترقی پذیر ممالک میں غذائی قلت کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور لاکھوں افراد کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔