LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور یوکرین ڈرون ٹیکنالوجی تنازعہ

News Image
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ یوکرین کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور انٹلیکچوئل پراپرٹی تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ اقدام چین کی جانب سے ماضی میں بوئنگ سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔
ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن یوکرین کی ڈرون انڈسٹری سے انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP) نکالنے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ یوکرینی ڈرون ٹیکنالوجی نے حالیہ جنگی حالات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب یہ ڈرون آپریٹر کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہونے کے باوجود اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس جدید ٹیکنالوجی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دفاعی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا امریکہ اس ٹیکنالوجی کو باضابطہ شراکت داری کے بغیر حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تجزیہ کار اس صورتحال کا موازنہ ماضی میں چین کی جانب سے بوئنگ کمپنی سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے عمل سے کر رہے ہیں۔ اس عمل کے تحت دفاعی اور تکنیکی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح یوکرین کے جنگی تجربات اور اختراعات کو بین الاقوامی سطح پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یوکرین کی دفاعی صنعت نے پچھلے چند برسوں میں انتہائی کم وسائل کے ساتھ جو ترقیاں کی ہیں، انہوں نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ خاص طور پر خود مختار نیویگیشن اور اے آئی پر مبنی سسٹمز نے جنگی حکمت عملی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ اور یوکرین کے درمیان اس ٹیکنالوجی کے تبادلے یا حصول کے حوالے سے کئی معاہدوں پر بات چیت بھی جاری ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ معاہدے طے پا جاتے ہیں تو اس سے عالمی دفاعی منڈی بالخصوص ڈرون سازی کی صنعت میں ایک نیا توازن قائم ہوگا۔ تاہم، یوکرین کے اندر بھی اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں اس کی مقامی انڈسٹری کو طویل مدت میں نقصان نہ اٹھاناپڑے اور اس کے حقوق محفوظ رہیں۔