World
ٹرمپ کی ایران کے جوہری مرکز پر حملے کی دھمکی اور خطے کی صورتحال
خارج جزیرے کے قریب تیل بردار بحری جہاز پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم جوہری کمپلیکس کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اس تازہ بیان نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
خارج جزیرے کے قریب ایک تیل بردار بحری جہاز پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد خطے میں تناؤ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ اس صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے باقی ماندہ جوہری تنصیبات میں سے ایک، جسے کوہِ پیک ایکس (Pickaxe Mountain) کہا جاتا ہے، کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اس دھمکی کے بعد بین الاقوامی سطح پر توانائی کی فراہمی اور سلامتی کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں سمندری تجارت اور توانائی کے ذخائر کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے واشنگٹن کا موقف ہمیشہ سے سخت رہا ہے، تاہم اس مخصوص پہاڑی مقام اور جوہری کمپلیکس کو دوبارہ ہدف بنانے کا ذکر خطے میں ایک نئی فوجی محاذ آرائی کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے اس قسم کے بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس سے پوری دنیا کی معیشت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دونوں فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوئی سبیل نکالی جا سکے۔