LIVE
Loading Breaking News...

منصور عباس اور اسرائیلی سیاست، فلسطینی ووٹوں کی نئی حکمت عملی

News Image
منصور عباس نے اسرائیلی انتخابات میں سیگالوِچ کے ساتھ اتحاد کر کے عرب ووٹوں کو زیادہ بااثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سیاسی قدم کا مقصد اسرائیلی مخلوط حکومت کی سیاست میں عرب اقلیت کی پذیرائی اور اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے۔
اسرائیلی پارلیمانی سیاست میں ایک اہم موڑ پر، عرب سیاستدان منصور عباس نے ایک نئے اور غیر روایتی سیاسی اتحاد کی بنیاد رکھی ہے۔ انہوں نے صہیونی رہنما سیگالوِچ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے تاکہ اسرائیلی انتخابات میں فلسطینی اقلیت کے ووٹوں کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ اس سیاسی جوڑ توڑ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اسرائیلی حکومتی ڈھانچے اور مخلوط حکومتوں کے اندر عرب ووٹس اور ان کے نمائندوں کی اہمیت کو تسلیم کروایا جا سکے۔ ماضی میں عرب سیاسی جماعتیں عموماً اسرائیلی حکومتوں کی تشکیل سے باہر رہی ہیں اور انہیں اپوزیشن میں ہی بیٹھنا پڑا ہے۔ تاہم، منصور عباس کی قیادت میں متوازن اور عملیت پسند رویہ اختیار کرتے ہوئے اب یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں رسائی حاصل کی جائے۔ اس اتحاد کے ذریعے عرب آبادی کے بنیادی مسائل جیسے کہ فنڈز کی فراہمی، جرائم کا خاتمہ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے حکومتی سطح پر براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس قسم کے سیاسی اتحاد پر فلسطینی حلقوں اور روایتی قوم پرست جماعتوں کی طرف سے تنقید بھی کی جاتی ہے، لیکن منصور عباس کا مؤقف ہے کہ عملی سیاست میں حصہ لے کر ہی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے صہیونی ایجنڈے کو جواز ملتا ہے، جبکہ حامیوں کا خیال ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں عربوں کو بااختیار بنانے کا یہ ایک بہترین اور حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ اس اتحاد کے ذریعے کتنے فلسطینی ووٹرز پولنگ بوتھ تک آتے ہیں اور کیا یہ حکمت عملی اسرائیلی سیاست میں عربوں کے لیے کوئی مستقل مقام بنا پاتی ہے یا نہیں۔ تمام سیاسی مبصرین اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں ایک اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔