LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں اسلامی تاریخ اور مسلم زندگی پر آرٹ نمائش

News Image
برطانیہ میں شاہد سلیم کی نئی آرٹ نمائش کا آغاز کیا گیا ہے جو یورپی اور برطانوی مسلمانوں کی تاریخ کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ نمائش رنگ برنگے ٹیپسٹریز کے ذریعے اسلامو فوبیا اور اہم تاریخی لمحات کو عوام کے سامنے لاتی ہے۔
برطانیہ میں فنونِ لطیفہ کی ایک نئی اور منفرد نمائش کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جو برطانوی مسلم زندگی، یورپ کی اسلامی تاریخ اور اسلامو فوبیا جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ نامور آرٹسٹ اور معمار شاہد سلیم کی اس نمائش نے شائقینِ فن کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے، جہاں بڑی تعداد میں لوگ اس منفرد ثقافتی پیشکش کو دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔ اس نمائش کا مقصد برطانوی معاشرے میں مسلمانوں کی طویل تاریخ اور ان کے ثقافتی ورثے کو بہتر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ نمائش کا مرکزی حصہ شاہد سلیم کے تیار کردہ وہ رنگ برنگے ٹیپسٹریز اور فن پارارے ہیں جو برطانوی اور یورپی مسلمانوں کی زندگی کے اہم ترین اور فیصلہ کن لمحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان آرٹ پاروں کے ذریعے ماضی کے تاریخی واقعات کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے آنے والے زائرین کو یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کے کردار کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ آرٹسٹ نے اپنی تخلیقات کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح مسلم کمیونٹیز نے صدیوں سے یورپی تاریخ اور ثقافت میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اس نمائش میں نہ صرف تاریخی کامیابیوں اور خوبصورت لمحات کو جگہ دی گئی ہے بلکہ موجودہ دور کے چیلنجز بالخصوص اسلامو فوبیا جیسے حساس موضوع کو بھی فن کے آئینے میں دکھایا گیا ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ آرٹ کے ذریعے معاشرے میں پائے جانے والے تعصبات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس نمائش کے ذریعے مکالمے کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے قریب آ سکیں اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔ ثقافتی حلقوں میں اس نمائش کو انتہائی سراہا جا رہا ہے اور اسے موجودہ حالات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے معاشرے میں رواداری اور تفہیم کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نمائش آنے والے ہفتوں میں مزید شہروں کا دورہ کرے گی جہاں بڑی تعداد میں طلباء، محققین اور عام شہری اسے دیکھ سکیں گے اور برطانوی مسلم تاریخ کے ان انوکھے ابواب سے روشناس ہو سکیں گے۔