LIVE
Loading Breaking News...

محسن نقوی کا نظام کی بحالی کے حوالے سے اہم بیان اور وضاحت

News Image
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظام کی بہتری کے لیے دی گئی تجاویز کسی خاص سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام عوامی خواہشات اور رائے کے عین مطابق ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے حالیہ بیان 'نظام کی بحالی' (system reset) پر جاری قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کے تبصرے کسی بھی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور ان کی تجاویز کا مقصد صرف ملکی نظام کو زیادہ مستحکم اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کارگر بنانا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ انہیں تنقید کا سامنا ہے لیکن وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ ملک میں بہتری کے لیے نئے اقدامات ضروری ہیں۔ نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس طرح کے کسی بھی فیصلے کا انحصار عوام کی مرضی پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر انتظامی بہتری کے لیے نئے یونٹس تشکیل دیے جاتے ہیں تو اس کے لیے عوامی تائید اور ان کی خواہشات کا احترام لازمی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا عمل ہونا چاہیے جو زمینی حقائق کے مطابق ہو اور جس سے عام آدمی کو براہ راست فائدہ پہنچے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ عوامی رائے کو نظر انداز کر کے کوئی بھی قدم اٹھانے کے حامی نہیں ہیں۔ محسن نقوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں ایسے اصلاحات لائے جس سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ 'نظام کی بحالی' کا مطلب کسی کو گرانا یا کسی کے خلاف سازش کرنا نہیں، بلکہ ملکی نظم و نسق کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کے انتظامی نظام میں شفافیت اور فعالیت لانی ہے تو پرانے فرسودہ طریقوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔ آخر میں وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ اپنی اصلاحاتی تجاویز پر قائم ہیں اور ان کا مقصد کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ محاذ آرائی نہیں بلکہ ملکی مفاد میں کام کرنا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی ترقی کے لیے تعمیری بحث میں حصہ لیں۔ محسن نقوی کے مطابق ملک کو ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو طویل مدتی استحکام کا باعث بنیں اور عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کر سکیں۔