LIVE
Loading Breaking News...

جزیرہ خاارگ کے قریب دھماکے اور ایرانی ٹینکر پر حملہ

News Image
ایران کے اہم جزیرہ خاارگ کے قریب دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ ایک ایرانی آئل ٹینکر کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کی خبر ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس کشیدہ صورتحال سے خطے میں مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران ایران کے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم جزیرہ خاارگ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دوران ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے خطے میں توانائی کی سپلائی اور سمندری سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ اور خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بھی ہلچل مچا دی ہے جبکہ دنیا بھر کے رہنما خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی اور دیگر مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بھی اس واقعے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جس میں متنازع بیانات اور سیاسی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر توانائی کی تنصیبات اور بحری گزرگاہوں کو اس طرح نشانہ بنایا گیا تو عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔ اس دوران خطے کے دیگر حصوں بشمول لبنان اور غزہ میں بھی کشیدگی اپنے عروج پر ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ بحران صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئندہ دنوں میں سفارتی سطح پر ہنگامی کوششوں متوقع ہیں۔