Pakistan
گل پلازہ آتشزدگی کیس، پولیس چالان میں انتظامیہ ذمہ دار قرار
پولیس نے گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے کی چالان رپورٹ عدالت میں جمع کرادی ہے جس میں بلڈنگ مینجمنٹ کو اس المناک حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس ہولناک واقعے کے نتیجے میں اموات کی تعداد بڑھ کر سڑسٹھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ جوڈیشل کمیشن نے اسے طویل المدتی نظام کی ناکامی قرار دیا ہے۔
کراچی کے معروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ یعنی پولیس چالان باقاعدہ طور پر عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے تیار کردہ اس چالان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس المناک سانحے کی اصل ذمہ دار گل پلازہ کی بلڈنگ انتظامیہ ہے، جو عمارت کی خطرناک حالت کے باوجود اسے مسلسل تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی۔ چالان کے مطابق انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات کو یکسر نظر انداز کیا اور فائر سیفٹی کے بنیادی اصولوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ دوسری جانب سرکاری اداروں کو اس مقدمے میں کلی طور پر بری کر دیا گیا ہے، جس سے انتظامی غفلت کا دائرہ کار واضح ہو جاتا ہے۔
اس ہولناک سانحے کے بعد قائم کیے جانے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ گل پلازہ کی عمارت طویل عرصے سے خستہ حال اور خطرناک حالت میں تھی، اس کے باوجود اسے بند کرنے یا مرمت کرنے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر کھولا جاتا رہا۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق یہ المیہ کسی ایک روز کی کوتاہی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی نظامی ناکامی (సిస్టمک فیلئر) کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عمارت میں ہنگامی اخراج کے راستے نہ ہونے اور فائر فائٹنگ کے آلات غیر فعال ہونے کی وجہ سے آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک شکل اختیار کر لی، جس سے نقصان میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
مقامی حکومت کے ذرائع کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی کے اس دلخراش واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر سڑسٹھ تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ملک کی تجارتی تاریخ کے بدترین جانی نقصانات میں سے ایک ہے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران سامنے آنے والے حقائق نے عمارتوں کی تعمیر اور حفاظتی معیار پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین اور متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ غفلت کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔