LIVE
Loading Breaking News...

نیپال کے تباہ کن سیلاب اور متاثرین کی بحالی کی تازہ ترین صورتحال

News Image
نیپال میں تباہ کن سیلاب اور فلیش فلڈز کے بعد متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کٹھن عمل جاری ہے جبکہ عالمی اداروں نے امداد کے لیے اپیل کی ہے۔ اموات اور لاپتہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد نے صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور فلیش فلڈز نے نہ صرف بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے بلکہ متاثرہ علاقوں کا منظر نامہ بھی یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ زمین کے بڑے حصے پانی اور ملبے کی نذر ہو چکے ہیں جس کے بعد مقامی باسیوں کے لیے اپنی زندگیوں کو دوبارہ سے شروع کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ اس خوفناک صورتحال پر یقین نہیں کر پا رہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی بھیانک خواب کی زد میں ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں آنے والے ان تباہ کن سیلابوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1,375 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ امدادی ٹیموں کی جانب سے لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز تاحال جاری ہیں، تاہم تباہ شدہ راستوں اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دور دراز کے کئی دیہات اور بستیاں دنیا کے باقی حصوں سے کٹ چکی ہیں جس کی وجہ سے وہاں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس سنگین انسانی بحران کے پیش نظر عالمی خوراکی پروگرام یعنی ڈبلیو ایف پی (WFP) نے نیپال میں اپنی امدادی سرگرمیوں کو وسیع پیمانے پر بڑھا دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے نیپالی سیلاب زدگان کے لیے فوری طور پر 5 کروڑ ڈالر (50 ملین ڈالر) کی اپیل کی ہے تاکہ متاثرہ آبادی تک بروقت راشن، پینے کا صاف پانی اور طبی امداد پہنچائی جا سکے۔ مقامی انتظامیہ اور عالمی ادارے باہمی تعاون سے اس کٹھن گھڑی میں متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔