World
عالمی فوڈ پرائس انڈیکس اگست میں تین سال کی بلند ترین سطح پر
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق، سپلائی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں کا انڈیکس اگست میں تین سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ دنیا بھر میں جاری تنازعات اور شدید موسمی حالات نے خوراک کی رسد کو شدید متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں کا انڈیکس اگست کے مہینے میں گزشتہ تین سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں سپلائی کے بڑھتے ہوئے خطرات، عالمی تنازعات اور شدید موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں جو دنیا بھر میں زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، دنیا کے مختلف حصوں میں جاری جنگی تنازعات اور موسمیاتی ناہمواریاں خوراک کی پیداوار اور اس کی ترسیل کے نظام میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خراب موسم کی وجہ سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان نے مارکیٹ میں اجناس کی دستیابی کو کم کر دیا ہے جس کے براہ راست اثرات عام صارفین پر پڑ رہے ہیں اور گروسری کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ادارہ برائے خوراک و زراعت نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے اور سپلائی چین کے مسائل کا فوری حل نہ نکالا گیا تو آنے والے مہینوں میں دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خوراک کے عالمی بحران سے بچا جا سکے۔