LIVE
Loading Breaking News...

یمنی حکومت کے حوثیوں پر فضائی حملے اور تازہ ترین صورتحال

News Image
یمنی حکومت نے باب المندب کی جانب حوثی باغیوں کے بڑے حملے کے بعد جوابی فضائی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس تازہ ترین محاذ آرائی سے ملک میں برسوں کی بدترین جنگی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
یمنی حکومت کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جو ملک میں جاری طویل خانہ جنگی کے دوران ایک اہم اور ڈرامائی موڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تازہ ترین فوجی اقدامات ایک بڑے حوثی حملے کے جواب میں کیے گئے ہیں جو باب المندب کے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اور اہم تجارتی راستے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ حوثیوں کی اس جارحانہ پیش قدمی کے نتیجے میں یمن کے اندر کئی برسوں کی بدترین اور خونی لڑائی شروع ہو چکی ہے، جس نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ باب المندب بین الاقوامی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی سطح پر گہرے اقتصادی اثرات مرتب کرتی ہے۔ یمنی حکومت کے ان فضائی حملوں کو اس اسٹریٹجک علاقے کا دفاع کرنے اور حوثی باغیوں کو پیش قدمی سے روکنے کی ایک فیصلہ کن کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ لڑائی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس سے نہ صرف یمن کا انسانی بحران مزید گہرا ہوگا بلکہ بحیرہ احمر کے اس اہم خطے میں بین الاقوامی سیکیورٹی کے مسائل بھی سر اٹھا سکتے ہیں۔ علاقائی اور عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑے نقصان کو روکا جا سکے، تاہم فی الوقت زمینی اور فضائی محاذ پر شدید جھڑپیں جاری ہیں۔