Politics
محسن نقوی کا بیان: نئے انتظامی یونٹس عوام کی رضامندی سے مشروط
وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام صرف عوام کی خواہش اور رضامندی سے ہی ممکن ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظام میں اصلاحات کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ گورنس کو بہتر بنانا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا جب عوام اس کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ نظام کی تشکیلِ نو یا ری سیٹ کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ پورے نظام کو توڑ دیا جائے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جو چیزیں غلط ہیں یا جن میں بہتری کی گنجائش ہے، انہیں قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر درست کیا جائے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کوئی بھی بڑی تبدیلی کسی ایک فرد، کسی مخصوص سیاسی جماعت یا تنہا حکومت کی مرضی سے نہیں لائی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے اور عوام کی واضح رضامندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس اہم معاملے پر تمام متعلقہ فریقین کو بیٹھ کر سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں تاکہ اس کے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔
محسن نقوی نے ملک کے موجودہ انتظامی نظام کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نظام اپنی تاثیر کھو چکا ہے اور اس کا اصل فائدہ نچلی سطح تک عوام تک نہیں پہنچ پا رہا۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ آج بھی ہمارے چار میں سے ایک بچے کو مناسب تعلیم حاصل نہیں ہو رہی، کل آبادی کے صرف پچپن فیصد حصے کو صاف پانی میسر ہے، اور ملک بھر کی عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت ان تمام سنگین مسائل کو حل کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے دیرینہ مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خود کو اسلام آباد صوبے کا سب سے بڑا حامی قرار دیا اور کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو بھی نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں اس کا جائز حصہ ملنا چاہیے تاکہ وہاں کے شہریوں کو بھی ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد کسی بھی خطے یا قومیت کے تشخص کو نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے بعد بھی سندھی سندھی ہی رہے گا اور پنجابی پنجابی ہی رہے گا، اور کسی سے بھی اس کی شناخت سرنڈر کرنے کا نہیں کہا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بحث کا مقصد نسل، قبیلے یا علاقائی تقسیم کو ہوا دینا نہیں بلکہ بہتر گورنس کا قیام اور عوام کو حکومت کے قریب لانا ہے۔ وزیر داخلہ نے سیاست دانوں پر زور دیا کہ اس حساس موضوع پر جذباتی تقاریر کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ انتظامی تبدیلیاں راتوں رات رونما نہیں ہوتیں۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر عوام کی یہی خواہش ہوگی تو یہ تبدیلیاں ہر صورت عمل میں لائی جائیں گی، کیونکہ اس میں عوام کی فلاح اور ایک مضبوط ریاست کا مفہوم پوشیدہ ہے۔