LIVE
Loading Breaking News...

يمن میں خونی جھڑپیں، حوثی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی میں ساٹھ افراد ہلاک

News Image
يمن کے جنوب مغربي علاقوں میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں میں ساٹھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ریڈ سی کے اہم گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ کے دوران میزائل حملے میں عام شہری بھی نشانہ بنے۔
يمن کے جنوب مغربی علاقوں میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ عسکری اور طبی ذرائع کے مطابق ریڈ سی کے ایک اہم راستے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے یہ لڑائی گزشتہ روز شروع ہوئی تھی، جو جولائی میں سنہ 2022 کے جنگ بندی معاہدے کے خاتمے کے بعد سب سے شدید ترین جھڑپوں کا تسلسل ہے۔ تین یمنی فوجی ذرائع نے بتایا کہ جنوب مغرب میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس خونریز لڑائی میں حکومتی فوج کے چھبیس اہلکار مارے گئے، جبکہ حوثیوں کے طبی اور عسکری ذرائع کے مطابق ان کے اکتیس جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ حکومتی کنٹرول والے شہر تعز میں ایک طبی ذرائع نے تصدیق کی کہ ایک میزائل حملے نے مسافر بس کو نشانہ بنایا جس میں سفر کرنے والے چھ شہری جاں بحق اور سات دیگر زخمی ہو گئے۔ ایک سرکاری عہدیدار نے اس بس حملے کا الزام حوثی باغیوں پر عائد کیا ہے جو تعز اور عدن کے درمیان سفر کر رہی تھی۔ تعز کے ایک فوجی افسر کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے شہر کے قریب پوزیشنیں سنبھالنے کے بعد آنے والے چند گھنٹے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ باغیوں کی اس پیش قدمی کا مقصد حکومتی کنٹرول والی بندرگاہ موخا کا محاصرہ کرنا اور باب المندب آبنائے کے قریب واقع علاقوں کی طرف بڑھنا ہے۔ یمن میں جاری اس نئی کشیدگی کے بعد خطے میں صورتحال مزید ابتر ہو چکی ہے اور سعودی عرب کی جانب سے باغیوں کے زیر تسلط علاقوں پر فضائی حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تازہ جھڑپیں مشرق وسطیٰ کی وسیع تر کشیدگی میں ایک نئے محاذ کا پتہ دیتی ہیں جس سے خطے کا امن شدید خطرے میں ہے۔